Pakistani Tujhe Sallam
A Tribute To All PAKISTANIS
Sunday, February 13, 2011
Friday, January 14, 2011
Sunday, August 22, 2010
اصل مجاہد۔۔۔
مختلف امدادی تنظیموں اور اداروں کی سیلاب زدگان کی مدد کی خبریں تو ہم سنتے رہتے ہیں لیکن ایک ایسے مزدور کے بارے میں سنیے جو محلے کے چند نوجوانوں کے ساتھ متاثرین کی مدد کے لیے دن رات کی پرواہ کیے بغیر ہر جگہ پہنچا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں سائیکل ریڑھی چلانے والے ایک مزدور دین محمد مجاہد المعروف دینو سیلاب آنے کے فوراً بعد سے متاثرین کی مدد کے لیے ہر جگہ پہنچا ہے۔
دین محمد نے بتایا کہ ’سب سے پہلے میں تحصیل پرووا کے علاقے رشید پہنچا جہاں ما سوائے ایک مسجد کے تمام گاؤں پانی میں بہہ چکا تھا اور لوگ مسجد کی چھت پر پناہ لیے ہوئے تھے۔ یہ لوگ دو روز سے بھوکے پیاسے تھے اور ان تک پہنچنا انتہائی مشکل تھا۔ اس لیے ایک کشتی کا انتظام کیا گیا اور اس مسجد تک ہم پہنچے تو ہمارا ایک ساتھی پانی میں گر کر بہا جا رہا تھا جسے بڑی مشکل سے بچایا اور پھر خوراک کے دو دیگ ان متاثرین کو دیے‘۔
انھوں نے کہا کہ کہیں خوراک کی کمی ہے تو کہیں پینے کے پانی کی قلت، کوئی کپڑے اور چپل مانگتا ہے تو کچھ خواتین اور بلکتے شیر خوار بچوں کے لیے دودھ لانے کی منتیں کرتی ہیں۔
دینو کے مطابق انھوں نے ایک عورت کو دیکھا جس نے بچے کو تپتی سڑک پر لٹا رکھا تھا اور اس پر سے مکھیاں ہٹا رہی تھی۔ اس عورت کے پاس نہ کوئی خیمہ تھا اور نہ ہی کوئی ایسا سامان جس پر بچے کو لٹا سکتی۔
شہر میں لاؤڈ سپیکر کے ذریعے اعلانات کے ذریعے چندہ اکھٹا کر کے دین محمد متاثرین کے لیے کھانا تیار کراتے ہیں اور پھر متاثرین تک یہ خوراک پہنچاتے ہیں۔
دینو کی کوئی تنظیم نہیں ہے، ان کے بیٹے اور محلے کے چند نوجوان ان کے مدد گار ہیں۔ دین محمد کے چار بیٹے ہیں، وہ خود مزدور ہے اور گھر کا واحد کفیل ہے۔ دینو نے بتایا کہ ان امدادی کارروائیوں کے دوران ان کا اپنا خاندان بھی متاثر ہوا ہے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ گھر میں پکانے کو کچھ نہیں تھا تو پیاز اور ٹماٹر کے ساتھ بچوں نے کھانا کھایا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جب متاثرین کے لیے کھانا تیار کیا جاتا ہے تو بہت دل چاہتا ہے کہ ایک پلیٹ بچوں کو بھجوا دوں لیکن اگلے لمحے یہی خیال آتا ہے کہ کہیں اس ایک پلیٹ سے کوئی سیلاب زدہ اس کا بھائی یا بہن بھوکا نہ رہ جائے اس لیے وہ یہ خیانت نہیں کر سکتا۔
دین محمد نے بتایا کہ اس سے پہلے بھی علاقے میں اگر کہیں کوئی مشکل میں ہوتا تو وہ اس کی مدد کے لیے ضرور پہنچتا ہے اسی لیے لوگ اسے مجاہد کہتے ہیں۔
Thursday, August 19, 2010
پہاڑ پور کے کشتی ران ہیرو
دریائے سندھ کے کنارے ضلع لیہ بھی سیلاب میں ڈوب گیا۔ لاکھوں لوگ سر پہ پاؤں رکھ کے بھاگے۔ انہیں محفوظ مقامات پہ پہنچانے والے کشتی بانوں نے معمول کے کرائے سے تین یا چار گنا زیادہ کرائے وصول کیئے۔ لیکن لیہ کے ہی پہاڑ پور کے علاقے میں کچھ کشتی والے ایسے بھی تھے جنہوں نے بہتر گھنٹے تک مصیبت زدگان کو محفوظ مقامات پہ پہنچایا، یہ پروا کیئے بغیر کہ کون کتنا کرایہ دیتا ہے۔ ان کشتی بان ہیروز کی کہانی ہمارے ساتھی وسعت اللہ خان کو بتا رہے ہیں ملتان کے صحافی شکیل احمد
ڈیرہ غازی خان کے مقامی ہیرو
ڈیرہ غازی خان کے مقامی ہیرو ملک اللہ بخش نے سینہ سپر ہو کر پوری بستی کو بچالیا:
Subscribe to:
Comments (Atom)