دریائے سندھ کے کنارے ضلع لیہ بھی سیلاب میں ڈوب گیا۔ لاکھوں لوگ سر پہ پاؤں رکھ کے بھاگے۔ انہیں محفوظ مقامات پہ پہنچانے والے کشتی بانوں نے معمول کے کرائے سے تین یا چار گنا زیادہ کرائے وصول کیئے۔ لیکن لیہ کے ہی پہاڑ پور کے علاقے میں کچھ کشتی والے ایسے بھی تھے جنہوں نے بہتر گھنٹے تک مصیبت زدگان کو محفوظ مقامات پہ پہنچایا، یہ پروا کیئے بغیر کہ کون کتنا کرایہ دیتا ہے۔ ان کشتی بان ہیروز کی کہانی ہمارے ساتھی وسعت اللہ خان کو بتا رہے ہیں ملتان کے صحافی شکیل احمد
No comments:
Post a Comment